https://www.videosprofitnetwork.com/watch.xml?key=32800c2231b65475beef3b6d9cd155e0

طوائف اور شاہ صاحب

  طوائف اور شاہ صاحب 

یہ لڑکیاں سب سے بے نیاز اپنی اداؤں سے سب کو گھائل کرتی مدرسہ عزیزیہ کے دروازے سے گزر رہی تھیں کہ حضرت شاہ محمد اسماعیل شھید رحمہ اللہ کی نظر ان پر پڑ گئی!

تو کیا شاہ صاحب آنکھیں بند کر کے چہرے پر رومال ڈال کر تیزی سے اس جگہ سے چلے گئے

 نہیں جناب!

حضرت نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا یہ کون ہیں؟... ساتھیوں نے بتایا کہ حضرت یہ طوائفیں ہیں اور کسی ناچ رنگ کی محفل میں جا رہی ہیں۔

حضرت شاہ صاحب نے فرمایا...اچھا یہ تو معلوم ہوا، لیکن یہ بتاؤ کہ یہ کس مذھب سے تعلق رکھتی ہیں؟

انہوں نے بتایا کہ جناب یہ دین اسلام ہی کو بدنام کرنے والی ہیں... اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہیں۔

شاہ صا حب نے جب یہ بات سنی تو فرمایا: مان لیا کہ بدعمل اور بدکردار ہیں لیکن کلمہ گو ہونے کے اعتبار سے ہوئیں تو ہم مسلمانوں کی بہنیں ہی...لہٰذا ہمیں انھیں نصیحت کرنی چاہیے، ممکن ہے کہ گناہ سے باز آ جائیں...ساتھیو ں نے کہا ان پر نصیحت کیا خاک اثر کرے گی؟ بلکہ ان کو نصیحت کرنے والا تو الٹا خود بدنام ہو جائے گا!

(تو کیا شاہ صاحب بدنامی کے ڈر سے اپنے ارادے سے پھر گئے؟)

نہیں جناب!

شاہ صاحب نے فرمایا: تو پھر کیا ہوا؟...میں تو یہ فریضہ ادا کر کے رہوں گا خواہ کوئی کچھ سمجھے!

ساتھیوں نے عرض کیا۔ حضرت! آپ کا ان کے پاس جانا قرین مصلحت نہیں ہے ...آپ کو پتا ہے کہ شہر کے چاروں طرف آپ کے مذہبی مخالفین ہیں...جو آپ کو بدنام کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے... آپ نے فرمایا مجھے ذرہ بھر پروا نہیں...میں انھیں ضرور نصیحت کرنے جاؤں گا!

اس عزم صمیم کے بعد آپ تبلیغ حق و اصلاح کا عزم صادق لے کر گھر میں تشریف لائے... درویشانہ لباس زیب تن کیا اور تن تنہا نائیکہ کی حویلی کے دروازے پر پہنچ گے اور صدا لگائی...اللہ والیو! دروازہ کھولو اور فقیر کی صدا سنو!

آپ کی آواز سن کر چند لڑکیاں آئیں...انھوں نے دروازہ کھولا تو دیکھا باہر درویش صورت بزرگ کھڑا ہے... انھوں نے سمجھا کہ یہ کوئی گدا گر فقیر ہے سو انہوں نے چند روپے لا کر تھما دیئے لیکن اس نے اندر جانے کا ا صرار کیا اور پھر اندر چلے گئے!

(اوہ یہ کیا کیا؟... تہمت کی جا میں، جہاں بہت سی نامحرم خواتین ہیں، وہاں چلے گئے؟)

شاہ صاحب نے دیکھا کہ چاروں طرف شمعیں اور قندیلین روشن ہیں... طوائفیں، طبلے اور ڈھولک کی تھاپ پر تھرک رہی ہیں...ان کی پازیبوں اور گھنگروؤں کی جھنکار نے عجیب سماں باندھ رکھا ہے... جونہی نائیکہ کی نگاہ اس فقیر پر پڑی اس پر ہیبت طاری ھو گئی... وہ جانتی تھی کہ اس کے سامنے فقیرانہ لباس میں گداگر نہیں بلکہ حضرت شاہ اسماعیل کھڑے ہیں... 

وہ جو حضرت شاہ ولی اللہ کے پوتے اور شاہ عبدالعزیز، شاہ رفیع الدین اور شاہ عبدالقادر کے بھتیجے ہیں... 

نائیکہ تیزی سے اپنی نشست سے اٹھی اور احترام کے ساتھ ان کے سامنے جا کھڑی ہوئی...

بڑے ادب سے عرض کیا:

حضرت آپ نے ہم سیاہ کاروں کے پاس آنے کی زحمت کیوں کی؟... آپ نے پیغام بھیج دیا ھوتا تو ھم آپ کی خدمت میں حاضر ھو جاتیں!

آپ نے آنکھیں بند کیے بغیر نامحرم سےکہا:

 بڑی بی! تم نے ساری زندگی لوگوں کو راگ و سرور سنایا ہے...آج زرا کچھ دیر ہم فقیروں کی صدا بھی سن لو!

جی سنایئے ہم مکمل توجہ کے ساتھ آپ کا بیان سنیں گی!

یہ کہہ کر اس نے تمام طوائفوں کو پازیبیں اتارنے اور طبلے ڈھولکیاں بند کر کے وعظ سننے کا حکم دے دیا... وہ ہمہ تن گوش ھو کر بیٹھ گئیں۔

 شاہ اسماعیل (رحمہ اللہ) نے حمائل شریف نکال کر سورة التين تلاوت فرمائی... آپ کی تلاوت اس قدر وجد آفریں اور پرسوز تھی کہ طوائفیں بے خود ہو گئیں... اس کے بعد آپ نے آیات مبارکہ کا دلنشین رواں ترجمہ کرکے بیان شروع کر دیا!

ان کا یہ خطاب زبان کا کانوں سے خطاب نہ تھا بلکہ یہ دل کا دلوں سے اور روح کا روحوں سے خطاب تھا...

 یہ خطاب دراصل اس الہام ربانی کا کرشمہ تھا جو شاہ صاحب جیسے مخلص درد مندوں اور امت مسلمہ کے حقیقی خیرخواہوں کے دلوں پر اترتا ہے!

جب طوائفوں نے شاہ صاحب کے دلنشین انداز میں سورة کی تشریح سنی تو ان پر لرزہ طاری ہو گیا... روتے روتے اُن کی ہچکیاں بندھ گئیں۔

شاہ صاحب نے جب ان کی آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑیاں دیکھیں تو انہوں نے بیان کا رخ توبہ کی طرف موڑ دیا اور بتایا کہ جو کوئی گناہ کر بیٹھے تو اللہ سے اس کی معافی مانگ لے تو اللہ بڑا رحیم ہے... وہ معاف بھی کر دیتا ہے بلکہ اسے تو اپنے گنہگار اور سیاہ کار بندوں کی توبہ سے بے حد خوشی ہوتی ہے... آپ نے توبہ کے اتنے فضائل بیان کیے کہ ان کی سسکیاں بندھ گئیں... کسی زریعہ سے شہر والوں کو اس وعظ کی خبر ہو گئی... وہ دوڑے دوڑے آئے اور مکانوں کی چھتوں دیواروں چوکوں اور گلیوں میں کھڑے ہو کر وعظ سننے لگے، تاحد ِنگاہ لوگوں کے سر ھی سر نظر آنے لگے!

شاہ صاحب نے انھیں اٹھ کر وضو کرنے اور دو رکت نوافل ادا کرنے کی ھدایت کی۔

راوی کہتا ہے کہ جب وہ وضو کر کے قبلہ رخ کھڑی ھوئیں اور نماز کے دوران سجدوں میں گریں تو شاہ صاحب نے ایک طرف کھڑے ہو کر اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلا دیئے اور عرض کیا:

اے مقلب القلوب! اے مصرف الاحوال! میں تیرے حکم کی تعمیل میں اتنا کچھ ہی کر سکتا تھا یہ سجدوں میں پڑی ہیں، تو ان کے دلوں کو پاک کر دے، گناہوں کو معاف کر دے اور انھیں آبرومند بنا دے تو تیرے لیے کچھ مشکل نہیں، ورنہ تجھ پر کسی کا زور نہیں، میری فریاد تو یہ ہے کہ انھیں ہدایت عطا فرما انھیں نیک بندیوں میں شامل فرما!

ادھر شاہ صاحب کی دعا ختم ہوئی اور ادھر ان کی نماز... وہ اس حال میں اٹھیں کہ دل پاک ہو چکے تھے! 

اب شاہ صاحب نے عفت مآب زندگی کی برکات اور نکاح کی فضیلت بیان کرنی شروع کر دی اور اس موضوع کو اس قدر خوش اسلوبی سے بیان کیا کہ تمام طوائفیں گناہ کی زندگی پر کف افسوس کرنے لگیں اور نکاح پر راضی ہو گئیں... چنانچہ ان میں سے جوان عورتوں نے نکاح کرا لیے اور ادھیڑ والیوں نے گھروں میں بیٹھ کر محنت مزدوری سے گزارا شروع کر دیا۔

کہتے ہیں کہ ان میں سے سب سے زیادہ خوبصورت موتی نامی خاتون کو جب اس کے سابقہ جاننے والوں نے شریفانہ حالت اور سادہ لباس میں مجاہدین کے گھوڑوں کے لیے ہاتھ والی چکی پر دال پیستے دیکھا تو پوچھا:

وہ زندگی بہتر تھی جس میں تو ریشم و حریر کے ملبوسات میں شاندار لگتی اور تجھ پر سیم و زر نچھاور ھوتے تھے یا یہ زندگی بہتر ھے جس میں تیرے ہاتھوں پر چھالے پڑے ہوئے ہیں؟

کہنے لگی اللہ کی قسم! مجھے گناہ کی زندگی میں کبھی اتنا لطف نہ آیا جتنا مجاھدین کے لیے چکی پر دال دلتے وقت ہاتھوں میں ابھرنے والے چھالوں میں کانٹے چبھو کر پانی نکالنے سے آتا ہے! 

یہ قصہ تذکرة الشہید سے ماخوذ ہے 

انسان انسانیت سے ہے۔

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو۔

ورنہ اطاعت کے لئے کم نہ تھے کروبیاں ۔

Share this:

CONVERSATION

0 comments:

Post a Comment